کاروار ، 24 / ستمبر (ایس او نیوز) نیشنل ہائے وے 66 کی توسیع کے دوران تعمیر کردہ سرنگ کو عوام کے لئے محفوظ نہ ہونے کی بات کہتے ہوئے ضلع انتظامیہ نے جو بند کرنے کے احکامات دئے تھے اس سلسلے میں نیا سیاسی کھیل شروع ہوگیا ہے اور ایم ایل سی گنپتی اُلویکر نے دھمکی دی ہے کہ ضلع انتظامیہ نے اگر 29 ستمبر تک اس سرنگ کو آمد و رفت کے لئے نہیں کھولا تو پھر عوامی سطح پر احتجاج کرتے ہوئے سرنگ کو کھول دیا جائے گا اور اس دوران اگر کوئی نا خوشگوار بات ہوتی ہے تو اس کے لئے ضلع انتظامیہ ہی ذمہ دار ہوگی ۔
خیال رہے کہ برسات کے دوران سرنگ کی دیواروں سے پانی رِسنے کی بات سامنے آنے کے بعد ضلع انچارج وزیر منکال وئیدیا نے سڑک توسیع کی ٹھیکیدار کمپنی آئی آر بی کو آڑے ہاتھوں لیا تھا اور ضلع ڈپٹی کمشنر نے سرنگ کو بند کرنے کا حکم دیا تھا ٹھیکیدار کمپنی سے کہا تھا کہ آمد و رفت کے لئے سرنگ محفوظ ہونے کی 'فٹنیس سرٹیفکیٹ' پیش کیے بغیر اسے عوام کے لئے کھولا نہیں جائے گا ۔ اس کے دو دن کے اندر ہی ٹھیکیدار کمپنی نے پونے کی ایک کمپنی سے حاصل کیا گیا فٹنیس سرٹفکیٹ حاضر کر دیا گیا جس پر ضلع انتظامیہ نے کچھ واجبی سوال اٹھائے تھے اور تا حال اس سرنگ کو کھولنے کی اجازت نہیں دی گئی ہے ۔
اب ایم ایل سی اُلویکر نے ضلع انتظامیہ کے خلاف کمان سنبھالی ہے اور شہر میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ پونے کے ایک نجی ادارے سے حاصل کیا گیا فٹنیس سرٹیفکیٹ حاضر کرنے کے باوجود ضلع انتظامیہ کی طرف سرنگ کو بند رکھنا قابل مذمت ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اسی سرٹیفکیٹ کی بنیاد پر نیشنل ہائی وے اتھاریٹی نے دو مہینے قبل ہی ضلع انتظامیہ کو مراسلہ بھیج کر کہا ہے کہ سرنگ عوامی استعمال کے قابل ہے اس لئے اسے کھولا جائے ۔
اُلویکر نے الزام لگایا کہ اس کے بعد بھی سرٹیفکیٹ پیش نہ کرنے کی بات کہتے ہوئے ضلع انچارج وزیر اور رکن اسمبلی سرنگ کا راستہ بند رکھتے ہوئے سیاسی کھیل کر رہے ہِیں اور عوام کو سرنگ استعمال کرنے کا موقع نہیں دے رہے ہیں ۔ اُلویکر نے سوال اٹھاتے ہوئے پوچھا کہ سداشیوگڑھ میں کالی ندی پر جو پُل تعمیر کیا گیا ہے اس کے تعلق سے بھی آئی آر بی نے پونے کی اسی کمپنی سے فٹنیس سرٹیفکیٹ حاصل کیا تھا ۔ اُس معاملے میں منتخب عوامی نمائندوں نے تحفظ کا مسئلہ کیوں نہیں کھڑا کیا تھا ؟
الویکر کا کہنا تھا کہ سیاسی کھیل میں الجھنے سے سرنگ کا راستہ جو بند کیا گیا ہے اس سے بینگا کے قریب حادثات بڑھ گئے ہیں ۔ حادثے کی وجہ سے ایک شخص کی جان بھی گئی ہے ۔ اس لئے ضلع انتظامیہ کو سرنگ کا راستہ کھولنے کے لئے اقدامات کرنے چاہیے ۔ ورنہ 29 ستمبر کو احتجاجی مظاہرے کے ساتھ عوام خود ہی سرنگ کا راستہ کھول دیں گے ۔